صدر مشر ف کی دلیرانہ تجویز” کے جوا ب میں”
محمد فاروق رحمانی
روز نا مہ جنگ را ولپنڈی مو رخہ 10دسمبر 2006ء کے سو یرے سویرے کالم میں نزیر نا جی صاحب کا مقالہ بہ عنوان ’’ صدر پر ویز مشرف کی دلیرانہ تجویز ‘‘نظر نوا ز ہو ا۔ مجھے اُن کی تحریر کے تما م مندرجات سے اختلا ف نہیں ہے۔اور میں اُن خدشات سے اتفا ق کر تا ہوں‘ جوانہوں نے آخر میں ظا ہر کئے ہیں۔لیکن میری طرح ہی بہت سا رے کشمیریوں کواُن کے اخذ کردہ نتا ئج سے اختلا ف ہو گا ۔جن کا تعلق تنا زعہ کشمیر اور کشمیریوں کے مطا لبہ حق خود ارادیت سے ہے۔ ان کا یہ کہنا صحیح ہے کہ
’’ 1965ء تک یہ را سخ تصور تھا کہ مقبو ضہ کشمیر پلیٹ میں رکھے ہو ئے حلو ے کی طرح ہما رے کا م و دہن کی توا ضع کے لئے تیا ر ہے۔جیسے ہی ہم نے چند سو مجا ہدین کنٹرول لائن کے پار بھیجے وہاں انقلا ب بر پا ہو جائے گا۔ بھا رتیوں کا بھرتا بن جا ئے گا۔ اور کشمیرپا کستان میں شامل ہو جا ئے گا۔‘‘
لیکن آگے چل کر میں نز یر نا جی صا حب کی جس با ت سے اختلاف رکھتا ہوں۔ وہ یہ ہے۔
’’مگر اُس وقت لینے کے دینے پڑ گئے جب مقا می لو گو ں نے مہما ن مجا ہدین کی نشا ن دہی کر کے انہیں گر فتا ر کرا دیا‘‘
اِس بات کا یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ جبرالٹر آپریشن کشمیریوں نے نا کام کیاتھا۔ جس سے یہ تا ثر قا ئم ہو سکتا ہے کہ کشمیری ہند کے حق میں تھے۔ پھر سوا ل پیدا ہو تا ہے کہ پاکستان نے اس قسم کی بڑ ی فو جی مہم جو ئی کیوں کی۔ میں اس با رے میں پو رے یقین کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ 1965میں جموں و کشمیر میں رائے شما ری اور حق خود ارادیت کی پر امن عوامی تحریک جو بن پر تھی ۔ اور ریا ست کے شہروں سے لیکر دورو دراز دیہا ت تک تحریک آزادی کی منظم اکا یئاں پھیلی ہو ئی تھیں۔ نیشنل کا نفرنس اور کا نگریس جیسی بھارت نوا ز پارٹیاں غیر مقبول تھیں۔ اُن کا وجود فوج‘ پولیس اور دیگر خفیہ عنا صر کی حمایت اور حفا ظت پر منحصر تھا۔ آزاد اخبا رات یا خبر رساں ایجنسیوں کا وجود عنقا تھا۔ لیکن کشمیر کی سیاسی صورت حال پر کبھی کبھی غیر ریا ستی اور غیر ملکی وقائع نگا ر اپنے فرا ئض نبھا نے کی کو شش کر تے تھے۔ انہی میں وا شنگٹن پو سٹ بھی شامل تھا۔اِس امریکی روزنا مے نے 14اگست 1965کو اپنے رپورٹر سلیگ ہا ریسن کی یہ رپورٹ شا ئع کی ۔
’’ میں نے جو لا ئی 1965میں کشمیر کا دورہ کیا مجھے معلو م ہوا کہ کشمیر کے عوام ٹھوس سطح پر بھا رت کی حکمرا نی کے خلا ف ہیں ۔اور ہندو ستان کے 12فو جی بریگیڈ ہی حق خود ارادیت کی تحریک کو قا بو میں رکھے ہو ئے ہیں‘‘
1965ء کے مو سم بہار میں شیخ محمد عبد اللہ اور محا ذرائے شما ری نے مقبو ضہ کشمیر میں کا نگریس کے ما ننے وا لوں کے خلا ف ترک موا لات کی تحریک شروع کی۔ اور موسم گرما میں سیز فائر لائن سے مسلح در اندا زی شروع ہو گئی ۔ مسلح پاکستانی مجا ہدین جموں و کشمیر کے شہری اور دیہاتی علاقوں میں پھیل گئے۔ کشمیری نو جوانوں کو اس کا کو ئی پیش گی علم نہیں تھا۔ اور نہ ان مجا ہدین کے سا تھ را بطہ قا ئم کر نے اور ان کی مدد کر نے کا کو ئی با قا عدہ نظا م تھا۔لیکن اس کے با وجود پاکستان کا یہ غیر معمولی اقدام کشمیر ی عوام میں نئے ولولے کا ذریعہ ثا بت ہوا۔ اور بھارت کے خلاف سیاسی مظا ہروں کے ساتھ ساتھ چھا پہ ما ر کا روا ئیوں کا آغا ز ہو گیا ۔ جس کا ثبو ت سری نگر میں فو جی گا ڑیوں پر بم پھیکنے کے وا قعا ت سے ملتا ہے۔ سری نگر اور دوسرے شہروں اور قصبوں میں یو نیور سٹی اور کا لجوں کے طلبہ اور طا لبا ت نے کیمپسوں سے با ہر نکل کر بھارت کے خلاف مظا ہرے شروع کئے جن کا سلسلہ ستمبر میں بھا رت پا کستان جنگ بندی اور اعلا ن تا شقند کے بعد بھی جا ری رہا۔اُس وقت کشمیر میں1990کی طر ح ’’تیز ترک گامزن منزل ما دور نیست‘‘ کا سما ں تھا۔ اور ریڈیو پاکستان اپنی نشریات میں’’ نڈر دلیر بچیاں سری نگر کی بیٹیاں‘‘ کا ترانہ بجا بجا کر کشمیریوں کو سلام پیش کر تا تھا ۔
جبرا لٹر فو رسز نے یو ں تو کشمیر میں داخلے کا آغاز اگست کے پہلے ہی ہفتے میں کیا تھا۔لیکن بھارتی افوا ج نے ان کی سر گر میوں کو تاڑ لیا تھا۔ریڈیو پاکستان نے اس مہم کا با قا عدہ اعلا ن ایک دوسرے اندا ز میں 9 اگست کو کیا ۔ریڈ یو نے 9 اگست کو صبح سویرے اپنے سننے وا لوں کو اِس با ت کی خبر دی کہ’’ کشمیریوں نے بھا رت کے خلا ف مسلح بغا وت کی ہے ۔ایک انقلا بی کو نسل قا ئم کر دی گئی ہے۔ جس نے تمام مالیاتی اور قا نون نا فذ کر نے وا لے اداروں اور عوام کو ہدا یت کی ہے کہ وہ آج سے ہندوستا ن اور اسکی قا ئم کردہ کٹھ پتلی حکو مت کے بجا ئے انقلا بی کو نسل کے احکا مات پر عمل کر یں۔‘‘
سری نگر میں بٹہ ما لنہ کی بستی میں جبرلٹر فو رسز کے چند جوا نوں نے ایک فو جی چھا ؤ نی کو نشا نہ بنا یا۔ جس کے جوا ب میں14 اگست کو بھا رتی افواج نے بٹہ مالنہ کی بستی کومکمل طو ر پر نذر آتش کر دیا ۔ یو ں سینکڑوں مکا نات را کھ ہو گئے۔بھا رتی فو ج کے جوا بی آپریشنوں میں جموں ‘پونچھ اور کشمیر کی دور درا ز بستیوں میں یہی عمل دوہرا یا گیا۔عوامی مظا ہرو ں کو کچلنے کے لئے تعلیمی ادا رے بند کئے گئے۔اور سری نگر سمیت کئی قصبوں میں کر فیو نا فذ کیا گیا۔ بہ ایں ہمہ جہاں کہیں جس طر ح اور جس سطح پر ممکن تھا۔ کشمیریوں نے مجا ہدین کے ساتھ تعا ون کیا ۔ اس وقت میں بھی ایک نو جوان تھا۔ لیکن بہت سا رے حساس اور سر گرم حریت پسندوں کو جبرالٹر آپریشن میں کو ئی دور س منصوبہ بندی نظر نہیں آتی تھی۔جب میں 9اگست کو صبح سویرے بیدار ہوا ۔ تو مجھے ایک ہمسا ئے نے بتا یا کہ ’’ قبا ئلیوں نے آج نصف شب کو قریبی فو جی کیمپ میں شب خو ن ما را ہے۔ اور اُس کے بعد وہ قریبی جنگل میں وا پس چلے گئے ہیں۔‘‘یہ وا قع با نڈ ی پو رہ میں میرے گھر سے صرف 3کلو میٹر کی دوری پر سُونروا نی گریز روڑ پر پیش آیا تھا۔ اِس کے بعد ہی میں نے فو ری طو ر پر ریڈیو کی سو ئی صبح کی پا کستانی نشریات کی طرف گھما ئی۔جہاں سے اَناونسر نے خبروں میں انقلا بی کو نسل کا وہ اعلان نا مہ نشر کیا جس کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں۔ایسا لگتا تھا کہ پاکستان کی وزا رت اطلاعا ت جو مفروضے پہلے ہی طے کر چکی تھی ۔ وہی نشر کئے جا رہے تھے۔
با نڈی پو رہ کے مر کزی قصبے سے تقریباً 20کلو میٹر دور با لا ئی علا قے ارن درد پو رہ کے شا دا ب جنگلا ت میں جبرا لٹر مجا ہدین نے اپنا ٹھکا نہ بنا یا تھا۔ اور پاکستانی طیاروں نے کئی باراِن ٹھکا نوں پر اُڑا نیں کر تے ہو ئے خوراک کے تھیلے پھینکے ۔یہاں سے مجا ہدین با آسانی دیگر علا قوں مثلاً سر ی نگر اور گا ندر بل بھی جا کر آپریشن کر سکتے تھے۔
سری نگر سے ذرا دور بڈگام کا علا قہ ہے ‘ جہاں رایتھن وترڈ کے بالا ئی دیہا ت میں جبرالٹر کما نڈروں نے مقا می لو گو ں کے تعا ون سے ایک سِول نظا م بھی تشکیل دیا تھا۔اور بڈگا م کے لئے ڈی سی اور دیگر سِول عہدہ داروں کا تقرر عمل میں لا یا تھا۔ غرض لو گوں نے اپنی جا نوں اور عزتوں کی پر وا کئے بغیران مجا ہدین کے ساتھ کا م کیا۔ حا لا نکہ بھا رت کا فو جی نظا م مستحکم تھا۔ حکو مت کشمیر کی زمینی گر فت بھی سری نگر یا جموں میں کسی قسم کے تساہل اورما یوسی کا اشا رہ نہیں دیتی تھی۔ حکو مت نے سیا سی قیا دت کے ساتھ جبرا لٹر فو رسز کے را بطے رو کنے کے لئے حریت پسند لیڈروں‘ کا رکنوں اور ہمدردوں کی گر فتا ریاں کیں ۔ ڈیفنس آف انڈیا رو لزاور دوسرے امتنا عی نظر بند ی قوا نین کے تحت ہزاروں لوگ پو چھ گچھ کے مر کزوں اور جیل خا نوں میں ڈا ل دیئے گئے۔اِسی صور ت حا ل کا مقا بلہ کر نے کے لئے طلبہ اور طا لبا ت تعلیمی اداروں سے با ہر آ کر مظا ہروں میں سر گرم ہو گئے تھے۔
یہ تمام با تیں’’ مشتے نمو نہ از خرواے‘‘ ہیں۔ اِن سے ثا بت ہو تا ہے کہ جبرا لٹر فورسز کو کشمیر کے اندر عوام کی طر ف سے کسی قسم کی مخا صمت کا سا منا نہیں تھا۔عوام نے نہا یت ہی نا مساعد حا لا ت میں جموں سے کشمیر تک ان کی حما یت کی حا لا نکہ مقامی آبا دی مسلح تھی‘ نہ تر بیت یا فتہ اور سر حدی علا قوں میں فوج لو گوں کی جا ن ما ل اور آبرو سے کھیلنے میں کو ئی پاس ولحا ظ نہیں کر تی تھی۔ یہ صور ت حا ل اُس وقت زیا دہ گھمبیر ہو گئی جب چھ ستمبر کو بھا رت نے بین الاقوا می سر حد توڑ کر پا کستان پر حملہ کر دیا ۔اُس وقت جبرا لٹر جوانوں نے مقامی لو گو ں کو بتا یا کہ اب ہمیں وا پس بلا یا گیا ہے۔ اس کے بعد بھا رتی آر می نے سر حدی علا قوں کے مردوں اور عورتوں پر قیا مت ڈھا ئی جس کے نفسیا تی کرب سے متا ثرہ نسل ابھی تک شفا یا ب نہیں ہو ئی ہے۔ گذ شتہ سولہ سا لوں کی جدید ریا ستی دہشت گردی نے اب مو جو دہ نسل کو بھی مذید ذہنی کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔ حیرت ہے کہ آج دنیا کی طا قت ور ریا ستوں کی اگر نکسیر بھی پھو ٹے تو اس کو بھی ہولوکاسٹ قرار دیا جا تا ہے۔لیکن مظلوموں پر فو جو ں کی قیا مت کسی کھا تے میں نہیں لکھی جا تی۔
آپریشن جبرا لٹر کی ناکا می کا سب سے بڑا سبب یہ تھاکہ اس تصور کے بانیوں اور پالیسی سا ز اداروں نے را ولپنڈی میں بیٹھ کر آنجہا نی وزیر اعظم لال بہا در شا ستری کے اُس بیان کو اپنی کو تا ہ بینی سے ایک گیدڑ بھبکی سمجھا تھا۔ جس میں بھا رتی وزیر اعظم نے رَن کچھ کے پس منظر میں خبردار کیا تھا۔ کہ آئندہ بھارت اپنی پسند کا میدان چن لے گا ۔
اگر آج تک مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری اور پا کستانی عوام کے سوا د اعظم کی امنگوں کے مطا بق سا منے نہیں آسکا ہے۔لیکن اِس نا کا می کی ذمہ داری کشمیری عوام پر عا ئد کر نا نہ صرف غلط ہے بلکہ خطر نا ک بھی اور اِس قسم کا تا ثر پیدا کر کے ہم مذید غلطیوں کے لئے را ستہ بنا رہے ہیں۔حقیقت میں یہ صورت حال پاکستان کے لئے کسی صدمے سے کم نہیں ہے۔ اور اِس کی ذمہ داری اُس فر سودہ ذہن اور پالیسی پر عا ئد ہو تی ہے جو ملک کی نو کر شا ہی اور فو جی حکو متوں نے توا تُر کے ساتھ قا ئد اعظم کی وفات کے بعد حق خود ارادیت کے اِس بہت بڑ ے مسئلے کے با رے میں اختیار کی۔ جس میں کسی گہری سیاسی اور فو جی پیش بینی کا فقدان رہا ہے۔اس کے علا وہ جن لو گو ں نے مسئلہ کشمیر کو خا لص مذ ہبی لبا س کے ساتھ پیش کر نے کی کو شش کی اُنہوں نے بھی اِس جا ئز اور منصفانہ تحریک کو نقصا ن پہنچا نے میں کچھ کم رول ادا نہیں کیا۔کشمیر میں پاکستان کے مختلف عسکری یا نیم عسکری اقدامات پر ’’صاف چھپتے بھی نہیں سا منے آتے بھی نہیں‘‘ کا مقولہ صا در آتا ہے۔
پاکستان کے مرحوم وزیر اعظم ذو لفقارعلیٰ بھٹو نے 18فروری 1972کوایک مغربی رپورٹر کے ساتھ اپنے انٹر ویو میں پاکستانی حکو متوں کی غلطیوں کا اعتراف کر تے ہو ئے کہا تھا کہ
’’ جب ہمیں مو قعہ آیا ہم نے اُس کو گنوا یا ۔ جب بھا رت کو مو قعہ ملا تو اُس نے فا ئدہ اُ ٹھا یا۔ مثلاً 1962ء میں چین بھا رت تنا زعہ کے مو قعہ پرجب بھارت اپنی افواج کا بہت بڑا حصہ کشمیر سے وا پس بلا چکا تھا ۔اس وقت ہما ری افوا ج کشمیر میں دا خل ہو سکتی تھیں۔لیکن ایو ب خا ن نے اوروں کے کہنے پر یہ خیا ل کیا کہ ہماری طرف سے اس قسم کے اقدام کو دنیا پیٹھ میں چھرا گھونپنے سے تعبیر کر ے گی ۔اب بھار ت نے پاکستان کے ساتھ کیاحشرکیا ! یہ کمر میں چھرا ہے یا سامنے سینے میں چھری لگی ہے ۔بہر حال یہ ایک قومی خنجر زنی ہے۔ میرا خیا ل ہے کہ اگر 1965کی جنگ جا ری رہتی تو ایک بہتر حل نکل آسکتا تھا۔لیکن پاکستان نے تمام موا قع ضا ئع کر دئے ۔ جب کہ بھار ت نے کو ئی ایک مو قعہ بھی نہیں چھو ڑا۔ میں نے اُس وقت حکو مت کو صاف بتا یا تھا کہ یہ ایک موقعہ ہے ۔ یا تو اس کو لے لو یا اگر نہیں لو گے تو خمیا زہ بھگت لوگے‘‘
سچ تو یہ ہے کہ پا کستان نے ایک با ر نہیں دو با ر نہیں بلکہ با ر بار موا قع ہاتھ سے جا نے دیئے۔ گفت وشنید کے منا سب اوقات بھی ضا ئع کئے اور فو جی بر تری کے مواقع بھی۔ اِس دوران پھیلی ہو ئی تا ریکیوں میں اگر پاکستان کشمیریوں کے عزم و استقلال کا مشا ہدہ باریک بینی کے ساتھ جا ری رکھتا اور لائق مخلص نو جوا ن قو توں کو سرا ہتا ۔اور سیاسی عزم اور فراست کو استعمال کر تا تو اُس کے لئے 1971ء کے بعد بھی خاص کر 1990ء کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں آگے بڑ ھنے اور حا صل کر نے کے لئے بہت سا سا ما ن تھا ۔’’ جو بڑھکر تھا م لے مینا و جا م اُسی کا ہے ‘‘۔
لیکن پاکستا نی حکمرا ن اُ س وقت سجدوں میں گر جا تے ہیں جب قیام کا وقت ہو تا ہے ۔1990ء میں جب کشمیر میں بھا رت کے فو جی تسلط کے خلا ف عوامی غیظ و غضب کا تند و تیز ریلا ہندو ستانی گما شتوں کی طا قت کو خس و خا شاک کی طر ح بہا ئے لے جا رہا تھا۔اوربھارت کے لیڈر کشمیر کو بھو ٹا ن کا درجہ دینے کے لئے آما دہ تھے۔ اُس وقت بھی کلاک الارم بجاتا رہا ۔ پاکستان کے پا س دو را ستے تھے ایک راستہ اندرا گا ندھی کا تھا۔ جو اُس نے دسمبر 1971ء میں مشرقی پاکستان پر چڑھا ئی کر کے اختیا ر کیا ۔ دوسرا راستہ یہ تھا کہ جموں و کشمیر کی ہمہ گیر عوامی سیاسی تحریک کو اپنی حا لت پر چلنے دیا جا تا۔ بلکہ اس کے حق میں بین الا اقوامی سفا رتی تحریک شروع کی جا تی ۔ ہم دیکھ لیتے کہ بھارت عا لمی را ئے عا مہ کے سا منے کیا جوا ب دیتا اور وہ کیسے کشمیر کی تحریک پر دہشت گر دی یا در اندا زی کی لیبل چڑھا تا ۔ یقیناًً ایسی حا لت میں ہندوستا ن بے بس ہو جا تا۔ وہ اُسی طر ح امن امن اور مذا کرات مذاکرات کی فریاد کرتا جس طر ح اب پاکستان کر رہا ہے۔
آج پاکستان یک طرفہ لچک دار مذا کرات کی رسی کو اس طرح دراز کر چکا ہے کہ اب اس کے پاس کچھ نہ ہو نے کے برا بر ہے۔ اور ہر جگہ پاکستان کے خیر خوا ہ اور حریت پسند نا کردہ گنا ہوں کے ہتھے چڑھ گئے ہیں ۔ حتیٰ کہ جموں و کشمیر میں پاکستان اور حریت پسندوں کامذا ق اُڑا نے کے لئے گیدڑوں اور لو مڑیوں نے شیروں کی کھا لیں اوڑ ھ لی ہیں۔
آپریشن جبرا لٹر اور اس کے تا ریخی کرداروں کے پس پردہ رول پر اب تک جو تحریں سامنے آچکی ہیں۔ اُن کا تجزیہ بتا تا ہے ۔ کہ جن ما ہرین کے اصرار پر یہ آپریشن شروع کیا گیا تھا ۔ وہ دور اندیشی سے خالی تھے۔ اُن میں سے بعض کے کچھ اندرون خانہ سیاسی عزائم بھی تھے ۔
جبرالٹر فورسز کے پا نچ حصے تھے۔طارق‘قاسم‘خالد‘صلا ح الدین اور غز نوی۔ اِ ن کی معا ونت کے لئے نصرت فورس تھی ۔ یہ فورسز 28 جولا ئی تک لانچینگ پیڈوں پر پہنچ گئی تھیں ۔ لیکن ان کے آپریشنز اگست کے تیسر ے ہفتے تک جموں و کشمیر کے اندر منتثر ہو گئے تھے۔ صرف غزنوی کچھ وقت تک بھدل پر قا بض رہا۔ آپریشن گرینڈ سلام اُس وقت شروع کیا گیا ۔ جب جبرا لٹر آپریشن ناکا م ہو گیا تھا ۔
اُس وقت کی پوری تصویر کو آئینے کی طرح دیکھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم اُس وقت کے صدر پاکستان کے ذہن اور اُن کے ذ ہنی خدشات کو بھی سا منے رکھیں ۔ قطع نظر اس کے کہ آخر کار انہوں نے اس کی اجا زت دی تھی۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ وہ پاکستان کی سا لمیت کو داؤ پر لگا نے کے لئے تیا ر نہیں تھے ۔اُن کا خیا ل تھا کہ فو جی مہم جو ئی خواہ کتنی ہی محدود کیوں نہ ہو اِس کا جوا بی رد عمل محدود نہیں رہ سکتا ہے۔ اور اِس کی لگام ہمیشہ شروع کرنے وا لے ہا تھوں میں نہیں رہتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوستان میں پنڈت نہرو کی وفات کے بعد’’ ذوالفقار علی بٹھو اور خارجہ سیکر ٹری عزیز احمد نے صدر ایو ب کو مائل بہ جنگ کر نے کی کو شش کی تھی ۔اور جی ایچ کیو میں کچھ پر جوش فو جی جنرل اول الزکر کی تیز و طرار گفتگو کی زلفوں کے اسیر ہو گئے تھے۔ خود ایوب خا ن کا حا ل یہ تھا کہ وہ ایجنسیوں کی رپورٹیں پولیس رپورٹوں کی مانند سطحی اور دقیا نو سی سمجھتا تھا ۔ بہر حال جمو ں و کشمیر میں آپریشنز کے آغا ز کے ساتھ ہی جبرا لٹرفو رسز کے تمام روابط پاکستان میں متعلقہ ایجنسیوں اور وزارت اطلاعات کے متعلقہ افسروں کے ساتھ ٹو ٹ گئے تھے۔ اور وہ سر زمین کشمیر میں زمین اور آسمان کے درمیان معلق ہو گئے تھے۔
الیسٹر لیمب نے اپنی مبسوط کتاب Kashmir-A Disputed Legacyمیں آپریشن جبرالٹر کی نا کامی کے چند اسبا ب پر یو ں رو شنی ڈالی ہے۔
.1موئے مقدس کی باز یا بی کی مذ ہبی ایجی ٹیشن میں عوام کا بھا رت کے خلاف اُ ٹھ کھڑا ہو نا ایک بات تھی۔ لیکن ایک طا قت ور فو ج کے خلاف جنگ لڑنا دوسر ی با ت ہے۔ دو نوں کا کو ئی موا زنہ نہیں ہے۔
.2پاکستان کا سکیو رٹی نظا م عیب دار تھا۔ جبکہ بھارت کی سراغ رساں ایجنسی نے 1965ء کے موسم گرما سے بہت پہلے اِس پلا ن کی اطلا ع دی تھی۔
.3جبرا لٹر آپریشن کا علم حکو مت کے اندر ایک محدود انتظامیہ کو حا صل تھا حتیٰ کہ ائر ما رشل اصغر خان بھی اتنے بڑے اہم فو جی منصوبے سے بے خبر تھے۔وہ 23جو لائی1965ء تک با قا عدہ ائر چیف تھے۔
.4منصو بہ سا زوں نے بھا رتی فو ج کی 1962ء کے بعد مو ثر فو جی تیاریوں کو نظر انداز کیا تھا۔
.5اِن منصو بہ سا زوں کو یہ گما ن نہیں تھا کہ کشمیر مین مدا خلت کی صورت میں بھا رت مغربی یا مشرقی حصے میں جوا بی فو جی کا روا ئی کر ے گا۔وہ 1948ء کے ما حول میں خوا بیدہ تھے۔
لا ہو ر پر چڑھا ئی کر نے سے پہلے 14اور15اگست کو بھارت نے کر گل میں پا کستانی پو زیشنوں پر حملہ کیا۔ اور 16اگست کو ایک لاکھ سے زائد بھارتی عوام نے پارلیمنٹ کی طرف ما رچ کیاکہ جموں و کشمیر پر حکو مت ہند ذرہ برا بر بھی نرمی نہ دکھا ئے۔اِس پُر آشوب صورت حال میں پاکستان کے مغربی پیکٹوں کے ساتھیوں کو یہ پریشا نی نہیں تھی کہ پاکستان کا کیا حشر ہو تا ہے۔وہ آخر کا ر پاکستان کو ہمیشہ کے لئے ایک طفیلی ریا ست کے طور پر دیکھنا چا ہتے تھے۔ اگر یہ کام ہندوستان جیسا سویت روس کا دوست ہی انجا م دیتا ہے ۔ تو یہ اُن کی نگا ہ میں اور بھی اچھی با ت تھی ۔
نز یر نا جی صاحب نے اپنے مقا لے میں لکھا ہے۔ کہ’’ حصولِ امن کا وا حد را ستہ کشمیر کے سا بقہ مو قف میں تبدیلی رہ گیا ہے۔ نہ ہم بھارت کے ساتھ جنگیں لڑ کے مقبو ضہ کشمیر کو آزاد کرا سکے اور نہ مسلح مدا خلت کاروں کی امداد کر کے بھارت کو شکست دے سکے ۔‘‘
جنگی ذرائع سے حصول مقصد میں ناکا می کا اعتراف تو صحیح ہے ۔لیکن سا بقہ مو قف اگر حق خود ارادیت تھا تو اِس کو ترک کرکے پاکستان خود کشی کی طرف نہ جا ئے۔حق خود ارادیت ہر حال میں ہر قیمت پر قوموں کی بنیا دی ضرورت ہے ۔خوا ہ محکو م ہو ں یا خو د مختار۔یہ اقوا م متحدہ کے چا رٹر اور انسا نی حقوق کے عا لمی منشور اور پاکستان کے دستور کا حصہ ہے۔ اس کے علا وہ حق خود ارادیت ہر ریاست کے اپنے اپنے آئین سے بھی ما ورا ء چیز ہے۔خود پاکستان کا قیا م بھی اِسی مو قف پر ڈٹے رہنے کا نتیجہ تھا۔ا س سے دستبردار ہو کرآپ زما نے کے اگلے چلینجوں کا مقا بلہ کر سکیں گے نہ عا لم اِسلام کی کو ئی خد مت کر سکیں گے۔اِس کا نتیجہ وہی ہو گا ۔ جو 18ویں صدی میں انگریزوں کے ذریعے ہندو ستا ن میں ہوا اور1971 میں مشرقی پاکستان میں۔
حق خود ارادیت کے حصول کی خا طر ہزاروں کشمیر ی اور پاکستانی جموں و کشمیر میں شہید ہو گئے۔ اور معلوم شہداء کی قبریں پو ری ریاست میں پھیلی ہو ئی ہیں۔ہم آپ سے یہ نہیں کہتے کہ آپ حسبِ سا بق جنگ و جہا د کی تبلیغ و تربیت کر تے رہیں۔ اور کشمیر میں مسلح تحریک کی پشتی با نی کر یں۔ لیکن آپ سے یہ بات ضرور کہیں گے کہ ایک پر امن اورخا لص سیاسی تحریک کی تقدیر کو سر بہ مہر نہ کریں۔ اور ایسے عنا صر کو طا قت ور نہ بنائیں جو قو موں کی اما مت کے سزا وار نہیں ہو تے ہیں۔ اب کچھ لو گ غلا ظت جمع کر کے اس تحریک پر پھینک رہے ہیں۔ اور ہمیں گندا پا نی پینے کے لئے مجبور کر رہے ہیں۔
ہم ضرور پرامن بقا ئے با ہمی کے حا می ہیں۔لیکن اگر پاکستان نے مو جو دہ حا لات میں کو ئی کمزور معاہدہ بھا رت کے سا تھ کیا۔تو بھا رت کا فو جی اور جا سوسی نظام اپنے پنجے اور نا خن مذید بڑھا ئے گا جس کے ذریعے کشمیری مستقبل میں بر ی طرح کچل دئے جا ئیں گے۔ آپ جن لو گو ں پر اس وقت تکیہ کر رہے ہیں وہ کسی ایسے معا ہدے کے بعد کشمیریوں کو بھارت کی خفیہ جاسوسی انتقا می کا روا ئیوں سے نہیں بچا سکیں گے زیادہ سے زیا دہ وہ اپنے لئے ٹرین کے کسی ڈبے میں برتھ(berth) کے حصول پر اکتفا کریں گے۔
آخر میں مقا لہ نگا ر نے لکھا ہے کہ’’ کشمیر کا وہی حل قابل عمل ہو گا جس میں پاکستان کے لئے اپنی عزت و آبرو کو محفو ظ رکھنے کی گنجا ئش مو جو د ہو‘‘ اس میں بھی ہما رے لئے تشویش ہے۔ ممکن ہے کہ بڑی طا قتوں کی مدد سے آخری مو قعہ پر بھارت کچھ گنجا ئش نکا لے۔ لیکن یہ پاکستان کے ہمہ گیر اور دور رس مفا د میں نہیں ہو گا ۔ اور کشمیری تو بہرحال اس عجیب کھیل میں ما رے جا ئیں گے۔اس لئے اس مو قعہ پر پاکستان کو کشمیر اور پاکستانی عوام کے دوہرئے مفا دات کا خیال رکھنا چا ہیئے۔کشمیریوں نے نصف صدی سے آپ کے لئے اپنی جا نیں قر با ن کی ہیں اور بھا رت سے جھگڑا مو ل لیا ہے۔اب اُن کو تنہا نہ چھو ڑیں ۔ بیشک جن طا قتوں کو جنو بی ایشیاء وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں اپنے سیاسی سٹریٹجک اور توا نا ئی کے مفادات مقدم ہیں ۔ وہ اس وقت جلدی میں ہیں۔ لیکن آپ کے لئے ایسا کو ئی مسئلہ نہیں آپ کچھ وقت انتظار کیجئے۔ اپنی قومی اسمبلی ‘ سینیٹ‘عوام‘ کشمیر کے سٹیک ہو لڈروں اور حریت پسندوں کو خوب فکرو عمل کا مو قعہ دیجئے۔ جموں و کشمیراور پاکستان میں قومی اتفا ق رائے کو تر جیح دیجئے تا کہ آگے چل کر کشمیر میں خو د کشمیری عوا م پاکستان کے مفادات کے لئے سِپر کا کا م دیں۔صدر جنرل پر ویز مشرف نے اب تک حصولِ امن کے راستے پر استقامت دکھا ئی ہے۔ اب بھارت کو دیکھئے کہ وہ کشمیر پر اپنی ہٹ دھرمی کو خیر با د کردے۔
مو جو دہ عجلت میں بھارت کے سیا سی اور فو جی مفا دات کی فتح ہوسکتی ہے۔ سب کچھ یک طرفہ ہے۔پاکستان تو اپنے دعوئے کی تا ویل کر چکا ہے ۔ جب کہ ہندو ستان کا نا جا ئز دعویٰ قائم ہے۔ اور کشمیریوں کی مو جو دہ اور آنے وا لے نسلوں کا مستقبل داؤ پر لگا رہے گا ۔ کیو ں کہ بھارت متوقع فیصلے کے بعد پیدا ہو نے وا لی صورت حال سے نپٹنے کے لئے اپنی ایجنسیوں اور فو جی اور نیم فو جی دستوں کو تیار کر چکا ہے۔کشمیر میں تمام سخت گیر اور ننگِ انسا نیت قوا نین قا ئم ہیں نیم فو جی دستوں اور پولیس والوں کی اضا فی تربیت یا فتہ سر وسیں منظم کی جا چکی ہیں۔اور کا فی عر صے سے تر قیاتی فنڈس کوجاسوسی نظا م اور فو جی آپریشنوں پر خر چ کیا جا رہا ہے۔ایسا نہ ہو کہ آخر کار ہم سب ہاتھ ملتے رہ جا ئیں۔ اور اِس شعر کی تصویر بن جا ئیں۔
صدسالہ دور چرخ تھا سا غر کا ایک دور
نکلے جو مے کدے سے تو دنیا بد ل گئی
نوٹ:نز یر نا جی صا حب نے’’ کشمیریوں کا المیہ ‘‘کے زیر عنوان روز نا مہ جنگ مو رخہ 26جنوری 2007کودوبا رہ یہ الزام دوہرایا ہے کہ مقبو ضہ کشمیر کے سا دہ لوح عوام نے پاکستا نی مدا خلت کا روں کی نشا ندہی کر کے آپرا یشن جبرا لٹر کو نا کا م بنا یا تھا۔‘‘اس سے قبل راقم الحروف نے 26دسمبر 2006کو نزیر نا جی صاحب کو ایک کھلا خط برا ئے اِشاعت اِرسال کیا تھا ۔جس میں مسئلہ کشمیر پر ان کے خیالات پر تبصرہ کیا گیا تھا۔لیکن ابھی تک اُس خط کوجنگ نے شا ئع نہیں کیا۔امید ہے کہ وہ خط روز نا مہ جنگ کی روا یا ت کے مطا بق شا ئع ہو گا۔
*محمد فاروق رحما نی کل جما عتی حریت کا نفرنس(گیلا نی) آزاد کشمیرکے کنو نیراور جموں و کشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے چیئرمین ہیں۔
01-01-2007

Print Friendly