Posted Thu, 10/08/2009
بانڈی پورہ/عازم جان:بانڈی پورہ میں گزشتہ روز فوج نے ایک بیوہ خاتون کے گھر میں گھس کر تلاشی کے بہانے وہاں سامان کو تہس نہس کر نے کے علاوہخاتون اور دیگر اہل خانہ کو ہراساں کیا اور اس سلسلے میں مذکورہ خاتون نے ایس پی بانڈی پورہ کے پاس بھی شکایت درج کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج اسے جنگجوﺅں کے بہانے تنگ کر تی رہتی ہے جس کی وجہ سے وہ اور اس کے اہل خانہ عدم تحفظ کا شکار ہوئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق منگلوار صبح 7پیرا فوج سے وابستہ اہلکاروں نے مقامی میجر کی قیادت میں عائشہ بیوہ محمد رمضان تانترے ساکنہ درمہامہ بانڈی پورہ کے گھر پر چھا پہ مارا ۔مذکورہ خاتون کے مطابق فوج نے اس کے گھر میں نہ صرف سا مان کو تہس نہس کیا بلکہ کمروں کی کھدائی بھی کی ۔خاتون نے الزام عائد کیا فوج نے اسے ان اس کے اہل خانہ کو سخت ہراساں کیا ہے۔عائشہ نے ایس پی بانڈی پورہ کے پاس اس واقعہ کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس عدم تحفظ کا شکار ہے اور فوج اسے سخت تنگ کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ چار بیٹیوں کی ماں ہے جبکہ فوج نے اس کے گھر میں بھاری نقصان بھی کیا ہے اور اسے اس نقصان کا معاوضہ دیا جائے ۔ایس پی بانڈی پورہ شیخ جنید نے بتا یا کہ فوج کو ایک خط ملا تھا اور اسی کی بنیاد پر فوج نے عائشہ کے گھر پر چھاپہ ڈالا ہے اور مذکورہ خاتوں ڈر گئی ۔شیخ جنید نے بتا یا کہ انہوں نے یہ معاملہ فوج کے ساتھ اٹھایا ہے تاہم فوج نے مذکورہ خاتون کو ہراساں نہیں کیا ہے۔فوج کے ترجمان کرنل ایس برار نے اس حوالے سے بتایا کہ فوج کو اطلاع ملی تھی کہ مذکورہ خاتون کے گھر میں جنگجوﺅں کی کمین گاہ ہے اور اسی اطلاع کی بنیاد پر فوج نے مقامی پولیس کی موجودگی میں مذکورہ خاتون کے گھرپر چھاپہ مارا اور تلاشی لی۔مقامی ممبر اسمبلی نظام الدین بٹ نے بتایا کہ اُن کی مداخلت کے بعد مذکورہ بیوہ کو فوج کے تشدد سے نجات دلایا گیا ۔ انہوں نے فوج سے اپیل کی کہ وہ آپریشن کے دوران مقامی پولیس کو ساتھ رکھے اور بغیر تصدیق کے کسی جگہ آپریشن نہ کریں۔

کشمیر عظمیٰ

Print Friendly, PDF & Email